
ناک کی سوزش
January 2, 2025
پینک اٹیکس
April 23, 2026انسانی فطرت ہے کہ وہ جلد باز ہے جلدی نتائج چاہتا ہے۔ انسان کی اس روش کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ میں درجنوں اقسام کی ویاگرا نما گولیاں دستیاب ہیں جو بظاہر ہتھیلی پر سرسوں جما دیتی ہیں، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کا طویل مدت استعمال کرنا خطرے سے باہر نہیں۔ہم سمجھتے ہیں ایسی دوائوں کا بے تحاشہ استعمال جگر اور گردوں کے لئے خطرناک ہے۔لہذا ایسے علاج سے پرہیز بہتر ہے۔ہمارے پاس بھی ایسی کمزوری کے مریض آتے ہیں لیکن انہیں باور کرایا جاتا ہے کہ اس مسلہ کا فوری حل ناممکن ہے۔ البتہ اگر مستقل مزاجی سے علاج کرایا جائے تو شِفایابی کے امکانات قوی ہیں۔ اور الحمدللہ مریضوں کو فائدہ بھی ہوا اور ہوتا آ رہاہے۔دراصل وقتی کام کرنے والی دوائیوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مریض کا اندرونی نظام کس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور جنسی کمزوری کا بنیادی سبب کیا ہے؟ ایسی بازاری دوائیں بلا تشخیص اپنے ٹارگٹ پرکام کرتی ہیں چاہے مریض کی اپنی صحت دائو پر لگ جائے ۔ لہذا ان دوائیوں کا استعمال بہت بڑا خطرہ ہے۔ یاد رہے کہ جنسی کمزوری مقامی اعضاء کی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق دور تک نظامِ جسمانی سے منسلک ہوتا ہے۔ بالخصوص مرکزی اعصابی نظام سے۔ لہذا عوام کو چاہیے جنسی کمزوری سے فوری نجات دلانے والے خوشنما اشتہارات کی زد میں نہ آئیں۔ ورنہ پیسے اور صحت کے نقصان کا ڈر ہے۔
اب بات کرتے ہیں جنسی کمزوری کے پیچھے جو جسمانی میکانزم ہے، وہ مختلف نظاموں کے درمیان تعامل کا نتیجہ ہے۔ بنیادی طور پر تین اہم نظام اس عمل میں شامل ہوتے ہیں:
: دماغ
جنسی تحریک کا آغاز دماغ سے ہوتا ہے۔ دماغ کے مختلف حصوں جیسے ہائپوتھیلمس اور لیمبک سسٹم، جو کہ جنسی خواہش اور جوش پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب دماغ میں جنسی تحریک کا سگنل پیدا ہوتا ہے تو یہ سگنل جسم کے دوسرے حصوں تک منتقل ہوتا ہے۔ہائپوتھیلمس دماغ کا وہ حصہ ہے جو ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہائپوتھیلمس ہی جسم میں ہارمونز کی پیداوار اور ان کے اخراج کو منظم کرتا ہے، جو کہ جنسی جوش و جذبہ بڑھانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ لیمبک سسٹم دماغ کا وہ حصہ ہے جو
جذبات اور یادداشتوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نظام جنسی تحریک کے جذباتی پہلوؤں میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔جب دماغ میں جنسی تحریک کا سگنل پیدا ہوتا ہے تو یہ سگنل اعصابی نظام کے ذریعے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچتا ہے، خاص طور پر عضو تناسل تک، جہاں یہ سگنل خون کی نالیوں کو کھولنے اور سختی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔اس طرح، دماغ جنسی تحریک کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور پورے عمل کو منظم کرتا ہے۔
: اعصابی نظام
جب دماغ جنسی تحریک کا سگنل بھیجتا ہے تو یہ سگنل ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے اعصاب تک اور جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچتا ہے، خاص طور پر عضو تناسل تک۔ جب سگنل عضو تناسل تک پہنچتا ہے تو خون کی نالیاں کھل جاتی ہیں، اور خون عضو تناسل میں بھر جاتا ہے، جس سے سختی پیدا ہوتی ہے جو کہ جنسی عمل کے لیے
ضروری ہے۔اعصابی نظام کی خرابی یا دباؤ جنسی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔اگر اعصابی نظام میں کوئی خرابی ہو، جیسے کہ ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ، یا کسی بیماری کے باعث اعصاب متاثر ہو جائیں، تو یہ جنسی سگنل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے عضو تناسل میں سختی پیدا نہیں ہوتی اور جنسی کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور بعض اوقات جسمانی یا ذہنی دباؤ کے باعث اعصاب ٹھیک سے کام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے جنسی سگنلز کی ترسیل میں مشکلات پیش آتی ہیں اور جنسی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
: ہارمونز
اگر جسم میں ہارمونز، خصوصاً ٹیسٹوسٹیرون جیسے ہارمونز جنسی خواہش اور کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹیسٹوسٹیرون بنیادی طور پر مردوں میں خصیے میں پیدا ہوتا ہے۔ مردانہ خصیے جنسی ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کے بنیادی منبع ہیں۔
خواتین میں، یہ ہارمون تھوڑی مقدار میں بیضہ دانی اور ایڈرینل غدود سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہاں لیڈگ سیلز
نامی خلیات ٹیسٹوسٹیرون کا اخراج کرتے ہیں۔خواتین میں بیضہ دانی تھوڑی مقدار میں ٹیسٹوسٹیرون پیدا (Leydig Cells)
کرتی ہیں جو کہ خواتین کے جسم میں موجود دیگر ہارمونز کے ساتھ متوازن رہتا ہے۔ایڈرینل غدود
مردوں اور عورتوں دونوں میں تھوڑی مقدار میں ٹیسٹوسٹیرون پیدا کرتا ہے۔ ٹیسٹوسٹیرون جسم میں کئی اہم کام انجام دیتا ہے، جن میں جنسی خصوصیات کی نشوونما، عضلات کی مضبوطی، اور جنسی خواہش کا فروغ شامل ہیں۔
اب ہم آتے ہیں ہومیوپیتھک علاج کی طرف۔ ایسا علاج جو قدرتی طریقہ علاج ہے۔ایک دیانت دار معالج مریض کی جنسی کمزوری کو فوکس کرنے کی بجائے اس کے سارے تن من پر توجہ کرتا اور یہ دیکھتا ہے کہ قوتِ حیات کا کہیں غلط استعمال تو نہیں ہو رہا ، توانائی کا بہران کہاں ہو رہا ہے؟اس کے مدِ نظر پورے مریض کو شِفا یابی کی راہ پر لانا ہے۔یاد رہے جنسی کمزوری بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی بیماری کا نتیجہ ہے۔ وہ اسے روزمرہ زندگی میں متوازن رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ لطف تو تب ہے کہ جب علاج مکمل ہو جائے تو بلا دوا مشینری اپنے کام پر لگ جائے اور ہومیوپیتھک علاج میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
ہومیوپیتھی میں ٹہنیوں، شاخوں اور پتوں سے الجھنے کی بجائے جڑ اور تنے پر توجہ کی جاتی ہے۔اصل ہومیو علاج سے اگرچہ بتدریج شِفایابی ہوتی ہے لیکن دیر پا ہوتی ہے اور برے اثرات بھی دیکھنے کو نہیں ملتے۔ جنسی کمزوری یعنی مردانہ کمزوری کی وجہ سے عضو مخصوص سکڑاؤ میں ڈھیلا رہتا ہے جس سے ملات ناقص یا بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ کبھی معمولی سا تناؤ ہوتا ہے کبھی تناؤ بالکل ہی نہیں ہوتا۔ مریض سست، کمزور، پست ہمت اور ہو جاتا ہے۔ چہرہ زرد ، ہاتھ پاؤں سرد، سر، کمر اور پنڈلیوں میں درد، نیند کم، ہاضمہ خراب اور بھوک کم جیسے عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔ اعضاء تناسل کا طبی معائنہ کیا جائے تو آلات کی لاغری کجی ، کمزوری اور رگوں کا پھولا ہونا اور نامکمل انتشار اس بیماری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح اس بیماری کی وجہ سے مریض ڈپریشن اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں کچھ ہومیو پیتھک ادویات کی جو جنسی کمزوری میں اگر استعمال کروائیں تو بہت فائدہ مند ہیں:
: ڈاکٹر مسعود سلاجیت
سلاجیت ایک قدرتی معدنی مرکب ہے جو صدیوں سے صحت کے بے شمار فوائد کے لیےاستعمال ہو رہا ہے۔ یہ زیادہ تر ہمالیہ، تبت، اور دیگر پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔اسے صحت کے لیے ایک مکمل ٹانک سمجھا جاتا ہے، جو جسمانی اور ذہنی طاقت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سلاجیت جو فلوک ایسڈ اور ہومک ایسڈسے بھر پور ، اس میں84 سے زائد معد نیات پر مشتمل جن میں تانبا، چاندی، زنک، آئرن اور سیسہ شامل ہیں ۔ سلاجیت قدرتی طور پر پٹھوں میں آکسیجن کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے، پٹھوں کے درد کو کم کرتا ہے اور باقاعدہ استعمال سے صحت یابی کوبہتر بنانے میں بہت معاون ہے۔ سلاجیت کو روایتی طور پر مردانہ قوت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ قدرتی طور پر ہارمونز کا توازن بحال کرتا ہے۔ سلاجیت اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنے اور جلد کو جوان رکھنے میں مدد دیتا ہے۔اس دوا کے دینے کے بعد آ پ کو بہت حیرت انگیز نتائج ملیں گے ۔
ایگنس کاسٹس : (Agnus Castus)
اس مرض کی یہ ایک بہت مشہور دوا ہے۔ آلات تناسل کی کمزوری کو دور کر کے طاقت مہیا کرتی ہے۔ یہ دوا
سے تیار کی جاتی ہے۔ اور بنیادی طور پر آلات تناسل پر اثر کرتی ہے اور مردوں کے امراض میں اس کا Chaste Tree
زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ عورتوں کی بیماریوں میں بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کی ولادت کے بعد خواتین کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور لچک ختم ہو جاتی ہے، عضلات ڈھیلے ہو کر لٹکنے لگتے ہیں اور سکڑ کر واپس اپنی اصلی حالت میں
جانے کی طاقت نہیں رکھتے، بانجھ پن، ان سب مسائل میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔مردوں میں نامردی اور جنسی کمزوری کی یہ بھی ایک خاص دوا ہے۔ جلق، کثرت جماع فکر و غم اور کثرت مطالعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور کمزوری میں یہ دوا بہت مفید ہے۔
ڈامیانہ : (Damiana)
پیلے رنگ یہ دوا مردانہ طاقت کی انتہائی اہم دوا ہے۔ کثرت جماع اور جلق کے بد اثرات کی وجہ سے یہ دوا بہت مفید ہے۔ یہ دوا ایک کے پھولوں والے پودے سے تیار کی جاتی ہے۔ اس دوا کا اثر زیادہ تر آلات تناسل زنانہ اور مردانہ پر ہوتا ہے۔ یہ دوا آلات تناسل کی کمزوری میں، نامردی میں، اور اعصابی کمزوری میں بہت مفید ہے اس دوا کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ نامردی اور مردانہ بانجھ میں تو یہ بہت ہی کارآمد دوا ہے ۔حصول اولاد کے لئے اس کو بکثرت استعمال کیا جاتا ہے، اس کے استعمال سے کروموسومز کی پیدائش اور صحت میں بہتری آتی ہے۔آتشک اور سوزاک کی وجہ سے پیدا ہونے والی جنسی کمزوری میں مفید ہے۔جریان منی اور قطرہ قطرہ پیشاب کے گرنے میں فائدہ مند ہے کیونکہ اس کے استعمال سے اعصاب طاقتور ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے بوڑھے افراد کے لئے بہت مفید ہے۔ خواتیں کے لئے بھی بہت مفید ہے ،جن مستورات میں خواہش نفسانی کی حس نہ ہو ان کے لیے بھی مفید ہے۔مردوں کے طرح زنانہ بانجھ پن میں بھی یہ دوا بہت مفید ہے خواہ اس کی وجہ کثرت حیض قلت حیض یا لیکوریا ہو یا کوئی اور سبب ہو اسے استعمال کی جا سکتا ہے۔
: سٹافسیگریا (Staphysagria)
اگر شہوانی خیالات ہر وقت دامن گیر رہیں۔ مریض پست ہمت اور کثرت مجامعت اور جلق سے پیدا شدہ کمزوری میں مفید ہے۔مریض کے دماغ پر ہر وقت جنسی خیالات چھائے رہتے ہوں ، مشت زنی کےبعد جسم پر بد اثرات نمایاں ہوں ، جریان میں مرجھایا ہوا چہرہ ہو ان کے لئے یہ دوا بہت مفید ہے ۔ منی کا اخراج زیادہ ہو اور کمر درد کے ساتھ کمزوری، مباشرت کے بعد تنگی تنفس کی شکایت ہوتی ہو ان مریضوں کے لئے بھی یہ دوا بہت فائدہ مند ہے۔پیشاب کرتے وقت نالی میں جلن ہو اور بار بار پیشاب آتا ہو جب پیشاب نہ کر رہا ہو تب بھی جلن ہو تو اس دوا کے دینے کے بعد آ پ کو بہت حیرت انگیز نتائج ملیں گے ۔
: سابل سيرولاٹا (Sabal Serrulata)
نامی پودے کے پھل سے تیارکی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے اس دوا کو ساپال میٹو کہتے ہیں۔ Saw Palmetto یہ دوا
یہ دوا عمومی کمزوری اور قوت باہ کی کمزوری میں بہت ہی فائدہ مند دوا ہے۔ اس دوا کا زیادہ تر استعمال مردانہ اور زنانہ امراض اور مخصوص اعضاء کی کمزوری میں کیا جاتا ہے۔نامردی یعنی مردانہ طاقت کی کمزوری میں اس دوا کو کامیابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ نوجوانوں میں جلق اور کثرت جماع کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوری میں یہ دوا بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ پراسٹیٹ گلینڈز کے مسائل اور سوزش میں بھی یہ بہت کامیاب دوا ہے۔ ان گلینڈز کے بڑھ جانے کی وجہ سے بندش پیشاب اور دیگر مسائل اس دوا کے استعمال سے درست ہو جاتے ہیں۔
: نيؤفر لوٹیم (Nuphar Luteum)
انگریزی میں کہتے ہیں۔ Water Lilly یا Pound Lilly یہ دوا نیلوفر کے پودوں سے تیار کی جاتی ہے نیلوفر کو
عموماً پانی کے تالابوں میں پھولدار چھوٹے پودے پائے جاتے ہیں یہ دوا ان کی جڑوں سے تیار کی جاتی ہے۔ اس دوا کو زیادہ تر مردانہ امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر خواہش نفسانی بالکل ختم ہو جائے تو ایسے مریضوں کے لیے یہ دوا بہت مفید ہے۔ اگر عضو تناسل سرد پڑ جائے اور ڈھیلا ہو جائے جیسے جان نہ ہو ایسے مریضوں میں بھی یہ دوا جادو کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ دوا اعصابی کمزوری میں بھی بہت مفید ہے۔ جیسے کہ ہم پہلے اعصابی کمزوری کی بات کر چکے ہیں ۔اور اس کے ساتھ ساتھ مردانہ آلات تناسل کی کمزوری میں بھی بہت مفید ہے۔اگر آ پ کے پاس جریان منی کے مریض آئیں اور بتائیں کہ پیشاب کرتے وقت منی کا اخراج ہوتا ہو ایسے مریضوں میں نیو فر لو ٹیم دینا کبھی نہ بھولیں ۔




