Masood-100-years-logo (1)Masood-100-years-logo (1)Masood-100-years-logo (1)Masood-100-years-logo (1)
  • ABOUT US
    • CHAIRMAN’S MESSAGE
    • OUR TEAM
  • SHOP NOW
  • MILESTONES
  • MEDIA CENTER
    • BLOGS
      • English
      • Urdu
    • PODCASTS
    • GALLERY
  • OUR PROCESS
    • HERBAL FARM
    • MANUFACTURING
    • QUALITY CONTROL LAB
  • OUR EXPORT
  • CONTACT US
A B C
✕
            No results See all results

            پینک اٹیکس

            • Home
            • All Blogs
            • Diseases
            • پینک اٹیکس
            جنسی کمزوری  (ایک مختلف تناظر میں)
            April 10, 2025
            GERD کیا ہے؟ علامات، وجوہات، تشخیص، پیچیدگیاں اور ہومیوپیتھک علاج
            July 21, 2026
            April 23, 2026
            Categories
            • Diseases
            • Urdu
            Tags

            ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت بے چینی اور گھبراہٹ کے احساسات کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ دراصل خطرناک یا دباؤ والی صورتحال کے سامنے جسم کا ایک فطری ردِعمل ہوتا ہے جسے “فائٹ یا فلائٹ” ردِعمل کہا جاتا ہے۔ تاہم جب کسی شخص کو بار بار اور کسی واضح وجہ کے بغیر بے چینی، دباؤ اور گھبراہٹ کے شدید احساسات ہونے لگیں تو یہ تشویش کی بات بن جاتی ہے۔

            اس کیفیت کو پینک اٹیکPanic Syndrome یا Panic Attackکہا جاتا ہے۔ ہر وہ شخص جسے پینک اٹیک ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اسے پینک ڈس آرڈر ہو، لیکن پینک ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کو اچانک اور بار بار پینک اٹیک ہوتے ہیں جن میں شدید خوف، بے آرامی یا قابو کھونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کوئی واضح خطرہ یا محرک موجود نہ ہو۔

            پینک ڈس آرڈر ایک ذہنی اور بے چینی کی بیماری ہے جس کی خاص علامت بار بار غیر متوقع پینک اٹیک کا آنا ہے۔ اس میں شدید خوف کے دورے آتے ہیں اور مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بہت برا ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ جسمانی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جیسے دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، کپکپی، سانس کا پھولنا یا جسم سن ہونا۔ یہ علامات چند منٹوں میں اپنی شدت کی انتہا تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے بعد مریض کو دوبارہ حملہ ہونے کا خوف رہتا ہے اور وہ ان جگہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جہاں پہلے حملہ ہوا ہو۔

            پینک ڈس آرڈر عام طور پر نوجوانی کے آخری دور یا ابتدائی جوانی میں شروع ہوتا ہے، عموماً 17 سے 24 سال کی عمر کے درمیان، اور بعض اوقات 25 سے 30 سال تک بھی ظاہر ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کسی فرد کو کوئی صدمہ یا تکلیف دہ تجربہ پیش آیا ہو۔ خواتین میں اس بیماری کا امکان مردوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

            یہ بیماری نسبتاً زیادہ اُن افراد میں دیکھی جاتی ہے جن کی ذہانت اوسطََ سے زیادہ ہوتی ہے۔ پینک ڈس آرڈر مہینوں یا سالوں تک جاری رہ سکتا ہے، جو علاج کے وقت اور طریقہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چند ماہ یا چند سال کی بیماری کے بعد مکمل افاقہ ہو جاتا ہے، لیکن بعض افراد میں علامات ایک ہی شدت کے ساتھ طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔

            ایک عام پینک اٹیک عموماً 20 سے 30 منٹ تک رہتا ہے اور تقریباً 10 منٹ کے اندر اپنی زیادہ سے زیادہ شدت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ دراصل جسم کے حفاظتی “فائٹ یا فلائٹ” ردِعمل کے فعال ہونے جیسا ہوتا ہے جب جسم کو کسی خطرے کا احساس ہو۔ یہ ردِعمل خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور عموماً گھنٹوں تک جاری نہیں رہتا۔

            اگر یہ کیفیت زیادہ دیر تک برقرار رہے تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ پینک اٹیک بار بار لہروں کی طرح آ رہے ہیں اور ان کے درمیان بحالی کا وقت بہت کم ہے، یا پھر یہ کسی اور بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

            کبھی کبھی ایگورافوبیا (Agoraphobia) بھی پینک اٹیک کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے یا الگ سے بھی موجود ہو سکتا ہے۔ اس کیفیت میں مریض کو عوامی ٹرانسپورٹ، کھلی جگہوں، بند جگہوں، قطار میں کھڑے ہونے، ہجوم میں ہونے یا اکیلے گھر یا باہر رہنے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔پینک اٹیک میں اکثر جسمانی علامات بھی شامل ہوتی ہیں جو دل کے دورے جیسی محسوس ہو سکتی ہیں، جیسے کپکپی، سنسناہٹ یا دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا۔ پینک اٹیک کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ پینک ڈس آرڈر کے شکار افراد اکثر اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ دوبارہ حملہ نہ ہو جائے، اور اسی خوف کی وجہ سے وہ اپنی روزمرہ زندگی میں بڑی تبدیلیاں کر لیتے ہیں۔ بعض افراد کو یہ حملے دن میں کئی بار ہوتے ہیں جبکہ بعض کو سال میں چند مرتبہ۔

            پینک ڈس آرڈر کے مریض شدید بے چینی کے دوروں سے گزرتے ہیں جنہیں پینک اٹیک کہا جاتا ہے۔ وہ مسلسل اس فکر میں رہتے ہیں کہ دوبارہ حملہ ہو سکتا ہے یا اس کے کیا نتائج ہوں گے، اور اسی وجہ سے وہ اپنے رویّوں اور سرگرمیوں میں تبدیلیاں لے آتے ہیں۔

            شدید پینک اٹیک میں درج ذیل میں سے کم از کم چار یا اس سے زیادہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔سانس کا پھولنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، کپکپی یا لرزنا، چکر آنا، سینے میں درد، پسینہ آنا، سردی یا گرمی کی لہریں، منہ کا خشک ہونا، سر درد، ہلکا پن محسوس ہونا، معدے میں بے چینی، غیر حقیقی ہونے کا احساس یا خود سے الگ ہونے کا احساس، جسم میں سنسناہٹ، متلی، گھٹن کا احساس، مرنے کا خوف، پاگل ہو جانے یا قابو کھو دینے   کا خوف۔

            بچوں یا کم عمر افراد میں پینک ڈس آرڈر کی علامات تقریباً ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی بالغوں میں۔ بعض اوقات رات کے وقت اچانک خوف کا احساس پیدا ہو کر انسان کو نیند سے جگا دیتا ہے ۔ اس میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، پسینہ آتا ہے اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ اس کو نائٹ ٹیررز (Night Terrors)سے الگ سمجھنا چاہیے کیونکہ نائٹ ٹیررز ایک نیند کی بیماری ہے جس میں مریض کو خود اس کیفیت کا شعور نہیں ہوتا۔

            پینک اٹیک عموماً اچانک بغیر کسی پیشگی اطلاع کے شروع ہوتے ہیں اور تقریباً دس منٹ یا اس سے کم وقت میں اپنی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔ بعض اوقات کئی گھنٹوں میں مختلف شدت کے متعدد حملے ہو سکتے ہیں جو ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے ایک حملہ دوسرے میں تبدیل ہو رہا ہو۔

            اگر کوئی شخص ان حالات سے بچنے لگے جہاں اسے پینک اٹیک کا خوف ہو تو اس میں ایگورافوبیا(Agoraphobia) بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو روزانہ یا ہفتہ وار حملے ہوتے ہیں۔ جو افراد طویل عرصے سے ان حملوں کا شکار ہوں وہ بعض اوقات شدید حملوں کے باوجود باہر سے خود کو قابو میں رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ہلکے درجے کے حملے بھی ہوتے ہیں جن میں صرف تین یا اس سے کم علامات ظاہر ہوتی ہیں، انہیںLimited Symptom Attacks کہا جاتا ہے۔

            بے چینی (Anxiety) دراصل اضطراب کا احساس ہے جو ہلکے سے شدید درجے تک ہو سکتا ہے اور اس میں فکر اور خوف شامل ہوتے ہیں۔ پینک اس کی شدید ترین شکل ہے۔ انزائٹی(Anxiety) اٹیک میں شدید تشویش، خوف اور بے قراری ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کی کئی علامات پینک اٹیک سے ملتی جلتی ہیں، لیکن انزائٹی اٹیک عام طور پر کسی خاص دباؤ یا صورتحال جیسے کام کی آخری تاریخ یا سماجی تقریب کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، اور یہ آہستہ آہستہ شروع ہو کر کئی گھنٹوں یا دنوں تک     رہ سکتا ہے۔

            پینک اٹیک بہت خوفناک اور پریشان کن ہو سکتا ہے۔ حملوں کی تعداد بیماری کی شدت پر منحصر ہوتی ہے۔ کچھ افراد کو مہینے میں ایک یا دو مرتبہ حملہ ہوتا ہے جبکہ کچھ کو ہفتے میں کئی بار۔ اگرچہ یہ حملے ڈراؤنے ہوتے ہیں مگر خطرناک نہیں ہوتے۔ اس سے جسم کو کوئی مستقل جسمانی نقصان نہیں پہنچتا اور عام طور پر ہسپتال میں داخلے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم اس کے بعد بے چینی، تھکن اور ذہنی دباؤ کا احساس باقی     رہ سکتا ہے۔ان میں سے بہت سی علامات دوسری بیماریوں میں بھی پائی جا سکتی ہیں جیسے عمومی بے چینی کی بیماری، دل کا دورہ، فالج، کم فشار خون یا پھیپھڑوں کی بیماریاں جیسے دمہ۔

            دیگر بیماریوں کو خارج کرنے کے لئے مکمل طبی تاریخ، جسمانی معائنہ، خون کے ٹیسٹ (جیسے ہائپوگلیسیمیا یا تھائرائیڈ کی زیادتی کو خارج کرنے کے لئے)، ای سی جی اور نفسیاتی جائزہ ضروری ہوتے ہیں۔ تمباکو، الکوحل اور منشیات کے استعمال کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

            ہر وہ شخص جسے پینک اٹیک ہوتے ہیں لازمی نہیں کہ اسے پینک ڈس آرڈر ہو۔ امریکن سائیکائٹرک ایسوسی ایشن کی شائع کردہ DSM-5 کے مطابق پینک ڈس آرڈر کی تشخیص کے لئے درج ذیل معیار بیان کئے گئے ہیں

            1. پینک اٹیک بار بار اور غیر متوقع ہوں۔
            2. کم از کم ایک حملے کے بعد ایک مہینہ یا اس سے زیادہ عرصہ تک دوبارہ حملہ ہونے کی فکر، اس کے نتائج کا خوف (جیسے دل کا دورہ پڑنا یا قابو کھو دینا) یا رویّے میں واضح تبدیلی۔
            3. یہ حملے کسی دوا، نشہ آور مادے، جسمانی بیماری یا کسی اور ذہنی بیماری کی وجہ سے نہ ہوں۔

            علاج کے ذریعے پینک اٹیک کی شدت اور تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے اور روزمرہ زندگی کے کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ بنیادی علاج میں نفسیاتی علاج (Psychotherapy) اور ادویات شامل ہیں۔ بیماری کی شدت اور مریض کی تاریخ کے مطابق ان میں سے ایک یا دونوں طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔

            نفسیاتی علاج کو پینک ڈس آرڈر کے لئے اولین علاج سمجھا جاتا ہے۔ اس میں گفتگو کے ذریعے مریض کو اپنی بیماری کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔

            (CBT) Cognitive Behavioral Therapyنفسیاتی علاج کی ایک اہم شکل ہے جس میں مریض اپنے تجربات کے ذریعے یہ سیکھتا ہے کہ پینک کی علامات خطرناک نہیں ہیں۔ معالج محفوظ ماحول میں پینک اٹیک کی علامات کو بتدریج دوبارہ پیدا کر کے مریض کو مختلف طریقوں سے سوچنے اور ردعمل دینے کی تربیت دیتا ہے۔ ایک طریقہ ہے جس میں مریض کو ان خوفناک حالات کا سامنا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے جن سے وہ بچتا رہا ہو۔ اس کے ساتھ آرام کی مشقیں بھی کرائی جاتی ہیں۔ جب پینک کی جسمانی علامات خطرناک محسوس ہونا بند ہو جائیں تو حملے کم ہو جاتے ہیں اور مریض ان حالات پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے جن سے وہ پہلے بچتا تھا۔ مکمل صحت یابی کے لئے وقت اور کوشش درکار   ہوتی ہے۔ادویات بھی پینک اٹیک کی شدت کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، خاص طور پر جب اس کے ساتھ شدید ڈپریشن بھی موجود ہو۔

            پینک اٹیک کے دوران علامات کو کم کرنے کے لئے چند طریقے مددگار ہو سکتے ہیں۔ مریض کو خود کو یہ یقین دلانا چاہیے کہ یہ کیفیت تقریباً دس منٹ میں گزر جائے گی اور اس سے کوئی جسمانی یا ذہنی نقصان    نہیں ہوگا۔

            گہری سانس لینے کی مشقیں مفید ہوتی ہیں۔ آہستہ آہستہ گہری سانس لیں، سانس لیتے اور چھوڑتے وقت چار تک گنتی کریں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ چار سیکنڈ میں سانس لیں، سات سیکنڈ تک روکیں اور آٹھ سیکنڈ میں آہستہ آہستہ خارج کریں۔

            اگر گہری سانس سے کچھ لوگوں میں گھبراہٹ بڑھ جائے تو وہ اپنی توجہ کسی پسندیدہ کام پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ کسی خوشگوار خوشبو کو سونگھنا بھی مددگار ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے حواس کو سکون ملتا ہے اور انسان حقیقت سے جڑا رہتا ہے۔ہجوم یا شور والی جگہ سے ہٹ کر کسی پرسکون مقام پر بیٹھ جانا یا دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لینا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ کسی قریبی چیز پر توجہ مرکوز کرنا بھی مدد دیتا ہے کیونکہ ایک محرک پر توجہ دینے سے دوسرے محرکات دب جاتے ہیں۔

            اسی سلسلے میں ذاتی تجربے میں آنے والا ایک کیس قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گا۔

            ایک33 سالہ مرد بائیں جانب سینے کے بیرونی حصے میں درد کی شکایت کے ساتھ آیا جو بائیں طرف پیٹ تک پھیل جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ڈکاریں (Eructation’s) آتی تھیں اور گزشتہ دو سال سے وقفے وقفے سے پیٹ میں بھاری پن محسوس ہوتا تھا۔

            گزشتہ دو سالوں میں مریض نے خون کے ٹیسٹ اور دیگر تحقیقات کروائیں جو نارمل آئیں۔گزشتہ دو ماہ سے شکایات میں اضافہ ہو گیا تھا۔لیٹنے سے تکلیف زیادہ ہوتی اور گہری سانس لینے سے آرام ملتا۔

            متعلقہ علامات:

            • بائیں ہتھیلی اور پاؤں کے تلوے سن ہونا
            • گلے میں گلٹی یا پھنسنے جیسا احساس
            • مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر قے ہو جائے تو شاید بہتر محسوس کرے
            • بے چینی بہت زیادہ

            دو ماہ قبل مریض نے انہی شکایات کے ساتھ ایک قریبی ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ اس وقت اسے تین دن سے کھانسی، نزلہ اور بخار بھی تھا۔ ڈاکٹر نے CBC اور CRP رپورٹس کی بنیاد پر بتایا کہ یہ علامات کووڈ جیسی ہو سکتی ہیں۔اس دن کے بعد مریض کی بے چینی بڑھ گئی اور وہ صحت یابی کے بارے میں زیادہ فکرمند اور پریشان رہنے لگا۔ اس میں موت کا خوف اور کسی مہلک بیماری کا خوف پیدا ہو گیا۔ اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا، نیند متاثر ہو گئی اور کبھی کبھار اچانک پسینہ بھی آ جاتا تھا۔

            مریض مسلسل اپنی بیماری کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔آدھی رات کے بعد علامات شدید ہو جاتیں۔ جلد تھکاوٹ محسوس ہوتی جیسا کہ وائرل بخار کے بعد ہوتا ہے ۔ کمزوری کی وجہ سے چلنے کے دوران گرنے کا خوف پیدا ہو گیا۔

            عمومی معائنہ (General Examination) :

            • بلڈ پریشر: 110/70 mmHg
            • نبض: 140 فی منٹ
            • SpO₂: 97% )کمرے کی عام ہوا میں(
            • نظامِ تنفس (RS) :دونوں پھیپھڑوں میں ہوا کا داخلہ و اخراج صاف
            • نظامِ قلب (CVS): S1 S2 واضح، دل کی دھڑکن تیز (Tachycardia)
            • پیٹ نرم، آنتوں کی آوازیں موجود

            جسمانی عمومی علامات (Physical Generals) :

            • بھوک برداشت نہیں ہوتی، بھوک لگنے سے سر درد ہو     جاتا ہے
            • خواہش: گرم غذا
            • مزاج: سردی سے حساس (Chilly)
            • پیاس: کم یا نہ ہونے کے برابر
            • نیند: غیر تازگی بخش (Unrefreshing)
            • خواب: بھوت یا ڈراؤنی چیزوں کے

            تحقیقات (Investigations) :

            ECG: Sinus Tachycardia

            ECHO: NORMAL

            Troponin T: منفی

            CBC: WITHIN NORMAL RANGE 

            تھائیرائیڈ پروفائل: نارمل حدود میں

            ذہنی حالت (Mental State) :

            مریض صحت کے بارے میں بہت محتاط ہے۔ جب بھی بیمار ہوتا ہے تو فوراً ٹیسٹ کرواتا ہے اور علاج کروانا ہے۔ وہ اپنی خوراک کے بارے میں بھی بہت محتاط ہے اور انفیکشن کے خوف سے باہر کا کھانا پسند نہیں کرتا۔اس میں Anticipatory Anxiety پائی جاتی ہے، یعنی کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اسے بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ مریض جلدی کرنے والا اور قدرے عجلت پسند مزاج رکھتا ہے، لیکن لوگوں کے ساتھ آسانی سے گھل مل جاتا ہے۔کووڈ-19 کے دوران جب وہ سونے کے لئے آنکھیں بند کرتا تو اسے ٹیلی ویژن پر دیکھے گئے ڈراؤنے مناظر جیسے مردہ جسم یا ICU میں داخل مریض یاد آتے۔ آدھی رات کو موت کے خوف سے جاگ جاتا اور گھر میں ادھر ادھر چلنے لگتا تھا۔اس میں فنکارانہ صلاحیت بھی موجود ہے۔ اسے اسکول کے زمانے سے ڈرائنگ اور پینٹنگ کا شوق تھا۔ وہ صفائی پسند ہے اور چاہتا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ پر اور صاف ستھری ہو۔ اگر کوئی گندگی کرے یا چیزیں بے ترتیب کر دے تو اسے غصہ آ جاتا ہے۔

            سابقہ بیماریوں کی تاریخ :

            Past History: 2008: TINEA CRURIS

            2015:  ECZEMA LEFT LEC

            تقریباً تین سال تک مختلف علاج کرواتا رہا، لیکن شکایات دوبارہ ہونے کی وجہ سے اس نے علاج چھوڑ دیا کیونکہ اسے لگا کہ دوائیں لینا بے فائدہ ہے۔

            خاندانی تاریخ (Family History) :

            • والد CKD (Chronic Kidney Disease)

            ریپرٹری کے اہم نکات (Rubrics) :

            • بے چینی اور اضطراب
            • خوف یا ڈر کے بعد پیدا ہونے والی بیماریاں
            • کسی کام سے پہلے اضطراب (Anticipation)
            • دل کے علاقے میں بے چینی
            • رات کے وقت سینے میں بے چینی
            • فکروں اور پریشانیوں سے پیدا ہونے والی بیماریاں
            • حد سے زیادہ صفائی پسند (Fastidious)
            • صحت کے بارے میں شدید فکر
            • صحت یابی نہ ہونے کا خوف

            نسخہ (Prescription) :

            15-5-2021

            Arsenicum Album 200 •ایک خوراک فوراً

            Hypericum  Q  10 drops 2 Time a day

            30-05-2021

            کمزوری میں بہتری

            • بائیں سینے کے درد کا کوئی دورہ نہیں
            • بائیں پیٹ کے درد میں بہت بہتری، مگر بھاری پن موجود
            • نیند بہتر
            • ڈکاریں کم
            • بے چینی ابھی موجود

            PLACEBO – 15 DAYS

            15-06-2021

            .   عمومی حالت بہتر

            • پیٹ کا بھاری پن کم
            • بائیں ہاتھ اور پاؤں کی سن ہونے میں کمی
            • گلے میں گلٹی کا احساس ختم
            • بے چینی 50% کم

            PLACEBO – 15 DAYS

            30-06-2021

            • گزشتہ 4 دن سے مصالحہ دار کھانا کھانے کے بعد معدے کے اوپری حصے میں جلن

            3 •   دن سے بائیں سینے اور بائیں پیٹ میں درد

            • خاندان کے ایک فرد کو وائرل بخار ہونے کی وجہ سے ان کی صحت کے بارے میں شدید فکر
            • اسی سوچ کی وجہ سے سینے کا درد
            • بے چینی اور ڈکاریں بڑھ گئیں

            Arsenicum Album 1Mایک خوراک

            PLACEBO – 10 DAYS

            10-07-2021

            • بے چینی اور اضطراب میں کمی
            • سینے کا درد ختم
            • بائیں پیٹ کا درد نہیں
            • عمومی حالت بہتر

            PLACEBO – 10 DAYS

            21-07-2021

            • تمام شکایات میں تقریباً 50% بہتری
            • کوئی بڑی شکایت نہیں
            • کوئی نئی شکایت نہیں
            • مریض بہتر محسوس کر رہا ہے
            • مریض ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل طور پر بہتر
            • روزمرہ کے تمام کام بغیر کسی شکایت کے انجام دے رہا ہے
            • کوئی فعال علاج نہیں دیا گیا

            Other Homeopathic Remedies:

            Terminalia Arjuna Q:

            Terminalia Arjuna Q ایک معروف ہومیوپیتھک مدر ٹنکچر ہے جو خاص طور پر دل کی صحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

            اہم فوائد:

            • دل کو مضبوط بناتا ہے اور اس کی کارکردگی بہتر کرتا ہے
            • دل کی دھڑکن کو متوازن رکھتا ہےPalpitations ) میں مفید(
            • بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے
            • سینے کے درد (Angina) میں آرام پہنچاتا ہے
            • ذہنی دباؤ اور بے چینی کو کم کرتا ہے جو دل پر اثر انداز ہوتے ہیں
            • دل کے پٹھوں کو تقویت دیتا ہے

            طریقہ استعمال (عام رہنمائی):

            10–15 قطرے آدھے کپ پانی میں دن میں 2 سے 3 بار (ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں)۔

            Moschus Q:

            Moschus Q خاص طور پر اعصابی کمزوری اور ہسٹیریا جیسی علامات میں استعمال ہوتا ہے۔

            اہم فوائد:

            • ہسٹیریا (Hysteria) اور جذباتی بے چینی میں مفید
            • دل کی تیز دھڑکن (Palpitations) کو کم کرتا ہے
            • گھبراہٹ اور اضطراب میں سکون دیتا ہے
            • اعصابی کمزوری (Nervous weakness) کو بہتر بناتا ہے
            • اعصابی امراض کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔
            • چڑچڑاپن اور اعصابی حملوں کے لیے مفید دوا ہے۔

            Artemisia Vulgaris Q:

            • (Convulsions)  مرگی اور دوروں کی حالت میں مفید۔
            • بچوں اور بلوغت کی عمر میں لڑکیوں کے اعصابی مسائل میں مددگار۔
            • دوروں کی شدت اور تعداد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
            • ہلکی نیند /سکون دینے والی (Sedative) کے طور پر کام کرتا ہے اور نیند لانے میں مددگار ہے۔

            HR-91:

            • اعصابی چڑچڑاپن، بے چینی اور ذہنی دباؤ میں مؤثر ہے۔
            • یہ ایک نہایت مؤثر ہومیوپیتھک فارمولا ہے جو اعصابی بے چینی، اسٹریس اور دل کی بے ترتیب دھڑکن (Irregular heartbeat) میں فائدہ مند ہے۔

            Share

            Related posts

            July 21, 2026

            GERD کیا ہے؟ علامات، وجوہات، تشخیص، پیچیدگیاں اور ہومیوپیتھک علاج


            Read more
            April 10, 2025

            جنسی کمزوری  (ایک مختلف تناظر میں)


            Read more
            January 2, 2025

            ناک کی سوزش


            Read more

            Comments are closed.

            Image for Call
            • Home
            • Message
            • Our Team
            • Milestones
            • All Blogs
            • Gallery
            • Podcasts
            • Contact Us

            • Our Export
            • Herbal Farm
            • Manufacturing
            • QC Lab
            FOLLOW US
            © 2026 Dr. Masood Homoeopathic Pharmaceuticals | All Rights Reserved | Designed By Digital Marketing Team 💛
                        No results See all results