
ہومیوپیتھی میں جانوروں کا علاج
October 22, 2024پاکستان سمیت دنیا بھر میں گردوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے
- ذیا بیطس اور بلڈپریشر گردوں کے فعل میں خرابی اور گردے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
- اس کے علاوہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس اور پین کلرز(Pain Killers) ادویات کا زیادہ اور بے جا استعمال بڑی وجہ ہے ۔
- نیز گردوں میں بار بار پتھریاں بننا، سگریٹ اور الکحل پینا، ردی غذاؤں، کولا مشروبات، انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال اور صاف پانی مناسب مقدار میں نہ لینا بھی بڑی وجوہات ہیں۔
بعض اوقات گردوں کے فعل کی خرابیاں بڑھ چکی ہوتی ہیں مگر واضح علامات سامنے نہیں آتیں یا کئی لوگ سامنے آنے والی علامات پر توجہ نہیں دیتے یا پھر انہیں علم نہیں ہوتا کہ گردے خراب ہو رہے ہیں۔ گردوں کے افعال میں ابتری کی چند خاموش علامات کچھ یوں ہیں پٹھوں کی کمزوری اور تھکاوٹ رہنا، مسلسل خارش اور جلد کی رنگت میں تبدیلیاں، خون میں زہریلے مواد کے زیادہ ہونے سے منہ کا ذائقہ بہت زیادہ خراب رہنا اور سانس میں تیز بو، متلی قے، کھانے کی خواہش ختم، جسمانی وزن میں کمی، پیشاب کی مقدار میں کمی، کیلشیم اور فاسفورس کی سطح میں خرابی سے کڑل پڑنا، دل کی دھڑکن میں تیزی نیز پیشاب میں پروٹین آرہی ہو تو آنکھوں کے ارد گرد یا جسم کے دیگر حصوں پر سوجن ہو سکتی ہے، نیند متاثر اور سانس پھولنا یہ اور دیگر بعض علامات سامنے آسکتی ہیں۔ بہتر صورتحال یہی ہوتی ہے کہ ابتدائی علامات سامنے آنے پر اپنے معالج سے رابطہ کریں اور ضروری لیب ٹیسٹ کرائے جائیں خاص طور پر ایسے خواتین و حضرات جن کے خاندان میں گردوں کے مریض ہوں انہیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ ذیا بیطس، ہائی بلڈپریشر اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ اپنے وزن، شوگر اور بلڈپریشر کو کنٹرول رکھیں ۔
اپنےطرز زندگی پر توجہ دیں۔ ہفتے میں پانچ روز کم از کم بیس منٹ واک یا ہلکی ایکسرسائز کریں۔ متوازن غذا لیں اور موسم کے مطابق روزانہ کم از کم چار سے چھ گلاس پانی پیٔیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گردے فیل کے مریض پانی کا استعمال کم سے کم رکھیں یعنی جب یوریا اور کریٹینائن بڑھا ہو تو مائع اشیا کم سے کم لینی ہیں۔ گردوں کی بیماری ہو یا کوئی اور پیچیدہ عارضہ ابتدا میں قابو پانا آسان ہوتا ہے مگر جب بیماری شدید نوعیت اختیار کر جائے تو علاج مشکل ہو جاتا ہے میرے پاس پروٹین اور گردے فیل کے مریض بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے اگر کوئی مستقل مزاجی سے ہومیوپیتھک علاج کراتا ہے، اسے کئی حوالوں سے فائدہ ضرور ہوتا ہے مریضوں کی بظاہر جسمانی صورتحال سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ بیماری کی نوعیت کتنی خراب ہے میرے دوست ڈاکٹر اعجاز علی صاحب کا کہنا ہے گردے فیل کے زیادہ عمر کے لوگ کم عمر کے مریضوں کی نسبت جلد ٹھیک ہوتےہیں۔ بینائی، گردوں، دماغ اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچانے میں ذیا بیطس اور بلڈ پریشر کا بےقابو ہونا اہم کردار ادا کرتا ہے علاوہ ازیں مردانہ عوارض اور عورتوں میں کمزوریوں کا باعث بنتا ہے۔ ذیا بیطس، بلڈ پریشر کو درست اور متوازن غذاؤں اسی طرح مستند معالج کی دواؤں کے استعمال اور ضروری پرہیز کے ساتھ قابو میں رکھیں۔
ذیا بیطس اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کے لیے اپنے پاؤں متحرک رکھیں اور خوب پیدل چلیں دونوں عوارض قابو میں رہیں گے، پاؤں اور ٹانگوں پر سارے جسم کا وزن ہوتا ہے، بیماریوں سے بچنے،ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے واسطے واک ناگزیر ہے، سیڑھیاں چڑھنا اترنا اور ہلکی پھلکی ورزش معمول بنا لیں، نیند پوری لیا کریں اور غیر ضروری فکریں ترک کر دیں۔ذیا بیطس کے باعث سر سے پاؤں تک تباہی اور خرابیاں پہنچتی ہیں، اعصاب جواب دے جائیں تو یادداشت اور قوت فیصلہ نہیں رہتی، معاملہ زیادہ خراب ہونے پر ڈیمینشیا کی نوبت آسکتی ہے۔ ذیا بیطس سے خون کی شریانوں کا کمزور اور تباہ ہونا نیوروپیتھی کی وجہ بنتی ہے۔ مردوں اور عورتوں میں ناطاقتی آنے سے تلخیاں جنم لیتی ہیں۔ نیفرونز کے فعل میں خلل آنے سے نیفروپیتھی بنتی ہے۔ آنکھوں کی شریانوں کی تباہی سے ریٹینوپیتھی ہو سکتی ہے۔ شوگر سے معدہ اور جگر کے عوارض سامنے آتے ہیں اسی طرح جلدی مسائل پیدا ہونے سے ڈرموپیتھی نکل آتی ہے۔ شوگر کی پیچیدگیوں سے بچنا ہے تو متوازن غذائیں استعمال کریں، اپنے لائف سٹائل میں بہتری لائیں واک کریں اور کرتے رہیں۔ گردوں کو فیل کرنے میں پیشاب میں پروٹین آنے کا کردار اہم ہوتا ہے اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے، پروٹین آنے کی علامات کچھ یوں ہیں پیشاب میں تیز بو اور جھاگ نمایاں ہوتی ہے، پاؤں اور ہاتھوں بعض اوقات پیٹ پر سوجن اسی طرح بار بار پیشاب کی حاجت ہوسکتی ہے، پٹھے درد کرتے اور معدہ خراب متلی قے وغیرہ کا امکان ہوتا ہے، علامات ظاہر ہونے پر اپنے معالج سے رابطہ کریں۔ گردے فیل اور پروٹین آنے میں علامات کے مطابق مرک کار، کلکیریا سلف، ایسڈ فاس، ایل سیرم، آرسینک البم، کالچیکم، کیوپرم آرس، مارفینم، کلکیریا آرس، کالی میور، ایپس، ایپوسائینم، اگنیشیا، پائیروجینم، اورم میور، زنجبر، فاسفورس، ہیلونیاس، نکس وامیکا، پلمبم میٹ، ہیلی بورس،کینتھرس، تھوجا، کالی کارب، بربرس ولگیرس، کالی بائی، پلساٹیلا، سٹافی اسگیریا، کیموملا، فارمک ایسڈ، لائیکو پوڈیم وغیرہ دوائیں زیادہ تر استعمال ہوتی ہیں۔ ایک اچھا ہومیو پیتھ مکمل کیس ٹیکنگ کرتے ہوئے اسی طرح روٹ کاز کو جانتے ہوئے ذہنی علامات اور مزاج کے مطابق مریض کی دواؤں تک پہنچ سکتا ہے، پوٹینسی کا انتخاب ہر ہومیو پیتھ اپنے تجربے، مریض کی صورتحال اور اس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے، عام طور پر 6، 30 اور 200 پوٹینسی ایسے مریضوں میں استعمال ہوتی ہے تاہم کوئی ہومیو پیتھ اگر 1M یا اس سے اوپر کی پوٹینسیز استعمال کرتا ہے تو بھی مناسب وقفے سے دے کر بہتر نتائج حاصل کر سکتا ہے۔
مریض پوچھتے ہیں کیا ڈائیلیسس کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھک دوائیں استعمال کر سکتے ہیں اور کیا ڈائیلیسس سے نجات مل سکتی ہے اس کا جواب یہ ہے بالکل ہومیو دوائیں ساتھ لے سکتے ہیں اور گردوں کی خرابی کے ابتدائی مرحلے میں جب ان کی ساخت زیادہ متاثر نہ ہوئی ہو اور مریض ضروری پرہیز کرے تو ڈائیلیسس سے نجات مل سکتی ہے، کئی مریضوں میں اس کا وقفہ بڑھ سکتا ہے جب کہ کئی مریضوں کو ڈائیلیسس کے ساتھ ہی چلنا ہوتا ہے تاہم درست ہومیو علاج کئی حوالوں سے ایسے مریضوں کو فائدہ دے سکتا ہے۔
یہ پیغام اپنے پیاروں تک پہنچائیں گردوں کو بچانا ہے توذیا بیطس اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھیں، معالج کے مشورے کے بغیر دوائیں بالخصوص پین کلر استعمال نہ کریں، ردی غذاؤں سے پرہیز اور روزانہ پیاس کے مطابق صاف پانی پییٔں لیکن اگر یوریا، کریٹینائن زیادہ ہو تو پانی کم سے کم پییٔں۔گردے اگر پیشاب نہ بنا رہے ہوں تو اسےSuppression of Urineکہتے ہیں اور اگر حاجت
ہو مگر مثانہ پیشاب خارج نہ کرے تو اسے
Retention of Urineکہتے ہیںگردے فیل میں پروٹین والی غذائیں نقصان دیتی ہیں انھیں گوشت، دالیں، انگور، کیلا، مسمی، مٹر، پالک، بینگن، کچے ٹماٹر، نمکین اور زیادہ میٹھی اشیا، چکنائی، تیز مرچ مسالے اور بازار کے کھانے نہ دیں، اب ان غذاؤں کا ذکر جو گردے فیل کے مریض ضرورت اور طبیعت کے مطابق لے سکتے ہیں۔ دودھ دہی بالائی کے بغیر، چھوٹے گوشت کا شوربا، مرغی اگر دیسی ہو تو بہتر ہے، مچھلی، زیتون، ایک دانہ انجیر، پستہ جو نمکین نہ ہو، چیری، انناس، انڈے کی سفیدی وغیرہ پوٹاشیم زیادہ ہو تو خشک میوے نہ لیں، جب پوٹاشیم کم ہوتا ہے تو اعصاب کمزور پڑ جاتے ہیں کالی فاس، کالی میور اور نیٹرم میور دوائیں ہو سکتی ہیں۔
گردوں کے عوارض میں میازم کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیں اگر فعل متاثر ہے تو میازم سورا، فعل کے ساتھ ساخت متاثر ہے تو میازم سائیکوسس اور توڑ پھوڑ ہو رہی ہو تو میازم سفلس ہو گا۔ فیملی ہسٹری میں مرض ہے تو پہلے کارسینوسینم دے سکتے ہیں۔ الیکٹرولائیٹس ڈسٹرب ہیں تو نیٹرم میور، کالی میور وغیرہ مدنظر رکھیں۔ GFR لیول بہتر کرنے کیلئے پیشاب آور دوائیں مریض کو دیں۔ گردے فیل کے مریض کو اگر جھٹکے لگیں تو کومے میں جا سکتا ہے کیوپرم آرس پر توجہ دیں اور اگر مریض کومے میں چلا جائے تو ہیلی بورس، اوپیم، مارفینم، کیوپرم آرس وغیرہ دوائیں ہو سکتی ہیں۔ گردوں کے کینسر میں سارساپریلا، تھوجا، ہائیڈراسٹس، مرک کار، کونیم، کالی میور وغیرہ کا مطالعہ کریں۔گردوں کی شریانوں میں تنگی Stenosis کی صورت میں بلڈ پریشر مسلسل ہائی رہ سکتا ہے کیکٹس بھی باقی دواؤں کے ساتھ دیں۔سٹیرائیڈز کا استعمال ہوا ہو تو ایک خوراک کارٹی سون کی دیں۔پولی سسٹک کڈنیز پیدائشی ہوتے ہیں کالچیکم، کریسول، مرک سال، تھوجا اور ایپس دوائیں ہیں۔
گردے سکڑنے میں پلمبم کے علاوہ فاسفورس کا درجہ بھی اہم ہے۔ گردے فیل کے مریضوں میں اگر پھیپھڑوں میں پانی پڑ جائے تو آرسینک البم اور مرک سلف کو دیکھیں، زیادہ یوریا ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ ہو تو کینتھرس ہائی پوٹینسی کی ایک خوراک اچھا کام کرتی ہے۔ بوڑھوں کے گردے فیل میں برائٹا کارب اور لائیکو پوڈیم کو باقی دواؤں کے ساتھ دیں، شیر خوار بچوں میں ایپس اور کلکیریا کارب اہم ہیں۔ جب فاسفورس کا لیول زیادہ ہو تو خارش ہو سکتی ہے کالی سلف، یوریا اور فاسفورس دے سکتے ہیں۔ Floating Kidneys پیدائشی ہوتے ہیں ایسے مریضوں کو وہ کھیل منع ہوتے ہیں جن میں چوٹ لگنے کا خدشہ ہو ان کی دوائیں کلکیریا آئیوڈائیڈ، اورم میٹ، کلکیریا فلور اور سیپیا ہو سکتی ہیں۔ گردوں میں پھوڑا بن جائے تو سلفر آئیوڈائیڈ، کینتھرس اور لائیکو پوڈیم دوائیں بن سکتی ہیں، لائیکو پوڈیم کا درد گردوں میں ایک جگہ ہوتا ہے یہ اپنی علامات پر دونوں گردوں کی دوا ہے۔ دونوں گردوں میں کوئی تکلیف ہو تو کلکیریا کارب بڑی دوا ہوتی ہے۔ گردوں کے مریضوں کا بلڈ پریشر ہائی رہتا ہو تو بیلاڈونا، نیٹرم میور اور ایل سیرم کا مطالعہ کریں۔
نیند کے مسائل میں ویلیریانہ اور کالی فاس پرسکون نیند لاتی ہیں۔ پیشاب بالکل نہ آئے تو ایپس، کینتھرس، زنجر، پکرک ایسڈ، ایپیئم کو دیکھیں۔ پروسٹیٹ اور سٹرکچر کو پیشاب کی رکاوٹ میں مدنظر رکھیں کونیئم، سالیڈگو، نائیٹرک ایسڈ، سیبل، کلیمیٹس اور پلساٹیلا کی علامات کا آپ کو علم ہونا چاہیے۔ گردوں کے درد اور پتھریوں میں لائیکو پوڈیم، سارساپریلا، کینتھرس، کالوسنتھ، بربرس ولگیرس، سلفر، ہائیڈرنجیا، بیسی لینم، میڈورینم، نکس وامیکا، اوپیم، کلکیریا کارب، اوسیمم کین، بیلاڈونا، بنزوئیک ایسڈ، گیلیم اپارین، پلساٹیلا، کلکیریا رینالس، ارٹیکا یورنس، تھلاسپی وغیرہ زیادہ استعمال ہونے والی دوائیں ہیںمیں نے کوشش کی ہے کہ معالجین، طلبہ اور عام لوگوں تک انتہائی منفرد انداز میں بہت سی معلومات ایک ہی جگہ فراہم کروں، اپنے پیاروں تک پہنچائیں۔
٭٭٭




